17 اپریل 2010 - 19:30

لوئر دیر میں گزشتہ روز بم دھماکے میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت نے پاکستان میں امریکی خفیہ مشن کو بے نقاب کر دیا ہے جہاںایک سو اسپیشل آپریشن امریکی فوجی ایف سی اہل کاروں کی تربیت کر رہے ہیں۔

 برطانوی خبر رساں ادارے روئٹر کے مطابق دھماکے میں امریکا کے اسپیشل آپریشن کے تین فوجیوں کی ہلاکت نے پاکستان میں انتہائی حساس امریکی ملٹری مشن کو بے نقاب کردیا ہے۔ پینٹاگون نے عام طور پر پاکستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی ہے۔ پاکستان میں امریکا مخالف جذبات اور امریکی فوجی سرگرمیوں کے بارے میں بہت زیادہ تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکی فوج کی سرگرمیوں کو پاکستان کی خود مختاری پر حملہ تصور کیا جاتا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرونز حملوں سے بھی پاکستان میں کشیدگی اور تناوٴ کی صورت حال ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے حکام پاکستان میں دو سو امریکی فوجیوں کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہیں جن میں امریکی سفارت خانے کی حفاظت کے لئے بھی تعینات فوجی شامل ہیں۔ امریکی اعلیٰ عہدے دار نے موضوع کی حساسیت کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک سو اسپیشل آپریشن امریکی فوجی ایف سی اہلکاروں کی تربیت کر رہے ہیں۔

 امریکی اسپیشل آپریشن فوجیوں کی اس وقت موجودگی کا انکشاف پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے لئے مزید سبکی کا باعث بنے گا جو گرتی ہوئی ملکی معیشت کا سامنا کر رہے ہیں اور عسکریت پسندوں کے خلاف مزید کارروائی کے لیے امریکی دباوٴ کے سامنے جھکنے کوتیار نہیں ہیں

 /152